উন্মুক্ত ইসলামি গ্রন্থাগার 📲 অ্যাপ ইনস্টল করুন
কামেলাইসলামি ডিজিটাল লাইব্রেরি
Qurbani Kiyon Kartay Hain

Qurbani Kiyon Kartay Hain

লেখক
Ameer-e-Ahl-e-Sunnat
ভাষা
উর্দু
বিষয়
নামাজ, রোজা, হজ ও যাকাত
পৃষ্ঠা
১৭
👁 পড়া হয়েছে ১ বার

এই বইয়ের লেখা এখনও যুক্ত হয়নি; পিডিএফ আকারে পড়ুন।

<div class="col-xl-12 col-lg-12 col-md-12 col-12 MyHtlArea">
<style>
.MyHtlArea h2 {
font-size: 22px;
color: #3b3b79;
}

.MyHtlArea h3 {
font-size: 18px;
color: #3b3b79;
}

.MyHtlArea p {
margin: 0px 0px 15px 0px !important;
text-align: justify;
line-height: 26px;
display: block !important;
}
</style>


<p>یہ کتاب قربانی کی اہمیت اور فضیلت کو واضح کرتے ہوئے اس کے بنیادی احکام سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں جانور کی درست عمر اور دانت کی پہچان، قربانی کے بہترین دنوں کی وضاحت، اجتماعی قربانی کی احتیاطیں، اور فوت شدہ والدین یا دیگر کی طرف سے قربانی کرنے کا شرعی طریقہ شامل ہے</p>
<h3>قربانی کیوں کی جاتی ہے اور اس کی فضیلت کیا ہے؟

</h3>
<p>
<br>قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یادگار ہے، جس کا مقصد اللہ کی رضا اور اطاعت کا اظہار ہے۔
<br>دلیل: قرآن میں ارشاد ہے:
<br>لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ ( الحج: 37)
<br> اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
<br> فضیلت:
<br>• یہ سنتِ ابراہیمی ہے
<br>• اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے
<br>“اللہ نے ہر چیز میں احسان فرض کیا ہے… جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو” (صحیح مسلم)

</p>

<h3>قربانی کے جانور کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟
</h3>
<p>
<br>اسلام میں قربانی کے جانور کی کم از کم عمر:
<br>• بکری/بکرا: 1 سال
<br>• گائے/بیل: 2 سال
<br>• اونٹ: 5 سال
<br>اگر بکری ایک سال سے کم ہو مگر دیکھنے میں ایک سال کی لگتی ہو تو جائز ہے۔
<br> دلیل:
<br>نبی کریم ﷺ نے مناسب عمر کے جانور کی قربانی کا حکم دیا (صحیح مسلم)


</p>


<h3>دانت نہ ہونے کی صورت میں کیا قربانی جائز ہے؟

</h3>
<p>
<br>اگر جانور کے دانت گر چکے ہوں اور وہ اتنا بوڑھا ہو کہ کھانے سے عاجز ہو تو قربانی جائز نہیں۔
<br> لیکن:
<br>• اگر عمر پوری ہے اور صحت مند ہے تو قربانی ہو سکتی ہے
<br> اصول:
<br>قربانی کے جانور کا عیب سے پاک اور صحت مند ہونا ضروری ہے (ابو داود)

</p>


<h3>فوت شدہ والدین کے نام پر قربانی کا ثواب کیسے پہنچتا ہے؟

</h3>
<p>
<br>فوت شدہ والدین کے نام پر قربانی کرنا جائز اور باعثِ ثواب ہے۔
<br> دلیل:
<br>نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی کی (مسند احمد)
<br> طریقہ:
<br>• نیت کریں کہ اس کا ثواب والدین کو پہنچے
<br>• اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں
<br> ایصالِ ثواب کے ذریعے نیکی کا اجر میت کو پہنچتا ہے

</p>

<h3>قربانی کس دن کرنا افضل ہے؟

</h3>

<p>
<br>قربانی کا سب سے افضل وقت: 10 ذوالحجہ (عید کے دن نماز کے بعد)
<br> اس کے بعد: 11 اور 12 ذوالحجہ کو بھی قربانی جائز ہے
<br> دلیل:
<br>نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
<br>• قصائی کو اجرت کے طور پر کھال دینا درست نہیں
<br> “سب سے پہلے ہم اس دن نماز پڑھتے ہیں پھر قربانی کرتے ہیں” (صحیح بخاری)

</p>
</div>

প্রকাশক: দাওয়াতে ইসলামী (মাকতাবাতুল মদিনা) — https://www.dawateislami.net/bookslibrary/ur/qurbani-kiyon-kartay-hain

পাঠকের মন্তব্য (০)

এখনও কোনো মন্তব্য নেই। প্রথম মন্তব্যটি আপনিই করুন।

ছবিসহ ও লিংকসহ মন্তব্য অ্যাডমিন দেখে প্রকাশ করেন।